ابنا: اطلاعات کے مطابق مرنے والے دس افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ حملہ آور امریکی فوجی نے قتل عام کرنے کے بعد بعض نعشوں کو آگ لگا دی۔ امریکی فوج نے حملہ آور فوجی کو حراست میں لے لیا ہے۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اس قتل عام کو ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے اور آرمی چیف کو خود موقع پر جا کر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اسے ایک شخص کا انفرادی فعل قرار دیا گیا ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما کی طرف سے جاری کردہ بیان میں اس واقعہ کو المناک قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گيا ہے۔
افغانستان میں اس واقعہ کے بعد عوام میں امریکہ کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ......./169